کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کے آبائی علاقے سوات میں حکومت پاکستان نے فوجی چھاونی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سوات میں بریگیڈ سطح کی چھاؤنی بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سوات کے دورے کے موقع پر وزیراعظم نے یہ اعلان ایک اجلاس میں کیا جس میں آرمی چیف راحیل شریف بھی موجود تھے۔
طانشانہ بنایا گیا
وزیراعظم ہاوس سے جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نے آپریشنز میں فوج کی کامیابیوں کو سراہا ہے ۔انھوں نے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے نکالنے کے لیے فوج کی جانب سے قائم کیے گئے ’سباؤن‘ مرکز کی تعریف کی اور اس مرکز کو ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اس مرکز میں تربیت پانے والے 2200 نوجوانوں کو دوبارہ معاشرے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ میں سوات میں بریگیڈ لیول کی چھاؤنی کے حکومتی اعلان سے آگاہ کیا۔
بعد ازاں ودودیہ ہال سیدو شریف میں ’ وزیراعظم کی سکیم برائے روزگار‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔
اس سے قبل گذشتہ سال ستمبر میں صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کی بتدریج واپسی کی اصولی طور پر منظوری دیدی تھی تاہم اس کے فوری بعد پشاور ہائی کورٹ نے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ پہلے ضروری امور کے بارے میں قانون سازی کریں اور پھر فوج کو علاقے سے نکالا جائے۔
خیال رہے کہ دو ہزار سات میں سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں جب تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ملا فضل اللہ کے جو اس وقت صرف سوات کے طالبان کے سربراہ تھے ساتھیوں کی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئیں تو علاقے کو فوج کے حوالے کر دیا گیا۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140115_nawaz_swat_visit_cantonment_hk.shtml
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140115_nawaz_swat_visit_cantonment_hk.shtml






0 comments:
Post a Comment