Wednesday, 15 January 2014

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کیلیے نیا کوڈ آف کنڈکٹ متعارف

اسلام آباد: ایس ای سی پی نے  کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کیلیے ترمیم شدہ کوڈ آف کنڈکٹ متعارف کرا دیے۔
گزشتہ روز جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے دائرہ کار اور ان کی ذمے داریوں اور حدود کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کی جانب سے ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان میں کام کرنے والی دونوں مقامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ترقی یافتہ ممالک میں رائج قواعد اور مقامی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کیں، کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے لیے رائج قواعد کو ازسرنو مرتب کرنے کی سفارش کی اور اپنی تجاویز پیش کیں، ایس ای سی پی نے کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ان پر ریگولیٹری نگرانی کو مزید موثر بنانے کے پیش نظر نیا کوڈ متعارف کیاہے۔
 photo 6_zpsd0fe7a61.jpg
نئے ترمیم شدہ کوڈ کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں میں کمپنیوں کی ریٹنگ جانچنے کیلیے تعینات افسران کی اہلیت کو بہتر کیا گیا ہے جبکہ ان  کی نگرانی بھی کی جائیگی اور کمپنیوں کی ریٹنگ مروجہ قوانین کے مطابق کی جائیگی، کوئی بھی ریٹنگ ایجنسی کسی ایسی کمپنی کی ریٹنگ کا کنٹریکٹ نہیں لے سکے گی جس نے کسی دوسری ایجنسی کو ریٹنگ کا کنٹریکٹ دیا ہو لیکن ریٹنگ عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی کسی دوسری ایجنسی کو ریٹنگ کنٹریکٹ دینے کی کوشش کر رہی ہو، کسی دوسری ریٹنگ ایجنسی کو کنٹریکٹ کیلیے کمپنی کو پہلی ایجنسی سے این او سی لینا ہو گا،ریٹنگ ایجنسیوں کو کلائنٹ کی معلومات کو صیغہ راز میں رکھنے کیلیے انتظامات اورملازمین کی تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا،نئے ترمیم شدہ کوڈ  کے بعد17فروری 2005 کو جاری کوڈ کالعدم ہو گئے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment