Wednesday, 15 January 2014

بلدیاتی انتخابات ملتوی: لاکھوں امیدوار مایوس


’انشاء اللہ چیئرمین، ظفر راجپوت، امیدوار برائے یونین کونسل 136 لاہور‘
ایسے بورڈ اور بینر لگانے والے یہ واحد بلدیاتی امیدوار نہیں ہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں امیدوار آنکھوں میں چیئرمین، کونسلر منتخب ہونے کا خواب سجائے میدان میں اتر چکے تھے۔ یہ تمام افراد پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوئے ہیں۔
صرف پنجاب میں پونے دو لاکھ امیدوار انتخابی کاغذات جمع کرانے کے بعد انتخابی مہم میں مصروف تھے لیکن سپریم کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے فیصلے نے ان کی امیدوں پر ٹنوں ٹھنڈا پانی انڈیل دیا ہے۔
جو کوئی بھی زندگی میں کوئی ایک الیکشن لڑ چکا ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ ان امیدواروں پر کیا بیتی ہوگی۔ وہ جانتے ہیں کہ الیکشن میں امیدوار کی زندگی اور شخصیت کیسے 180 ڈگری پر تبدیل ہو جاتی ہے۔
بات صرف مال و دولت اور اس وقت کی نہیں ہوتی جو الیکشن مہم میں صرف ہوتا ہے بلکہ معاملہ اس سے کہیں آگے کا ہوتا ہے۔
دوستیاں، یاریاں، رشتہ داریاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔دوست دشمن نکلتے ہیں اور دشمن دوست ثابت ہوتے ہیں جن کی اپنے تئیں بہت اہمیت ہوتی ہے وہ حقیقت میں ناکارہ ثابت ہوتے ہیں اور جن کو کبھی اہمیت نہیں دی ہوتی ان کے بارے میں انکشاف ہوتا ہے کہ وہ آپ کے لیے لڑ مرنے کو تیار ہیں۔
دل کو مار کر برے کو گلے لگانا پڑتا ہے اور کبھی کبھی شریف سے کنی کترانا پڑتی ہے۔
لیکن اگر کسی نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا تو وہ کبھی اس مایوسی کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو ان امیدواروں کو ہوئی ہوگی جنھیں پتہ چلا کہ عدالتی حکم کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو چکے ہیں۔اس مایوسی کا کوئی دوسرا اندازہ نہیں لگا سکتا۔

بلکہ سیاسی جماعتیں کروڑوں روپے کا فنڈ بھی اکھٹا کر گئیں ہیں
اگرچہ بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس مایوسی کو سمجھنے سے یا تو قاصر ہیں یا جان بوجھ کر انجان بنے ہیں لیکن ایک مختصر بات یہ ہے کہ جن پارٹیوں نے ان انتخابات کے راستے میں روڑے اٹکائے خود ان کے حمایتی ان سے بدظن ہوئے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کے بعد ملتان کی یونین کونسل 36 سے مسلم لیگ نون کے حمایت سے چیئرمین کے امیدوار رانا سجاد سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تو وہ اپنی ہی پارٹی کے خلاف پھٹ پڑے۔
انھوں نے کہا کہ اگر 11 مئی کے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوئی ذرا سی بھی بات کر دیتا تو مسلم لیگ نون کی قیادت پر قیامت گزر جاتی انھوں نے بیانات دے دے کر نگراں حکومت کی ایسی تیسی کر دینی تھی لیکن اب وہ خاموش ہیں۔
انھیں کیا ہوگیا ہے؟ اس پر انھوں نے کہا کہ’پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے وہ کس سے فریاد کریں؟‘
یہ کوئی جنرل الیکشن نہیں تھے جس میں چند سو یا چند ہزار امیدوار میدان میں اترتے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140115_local_body_elections_delay_zz.shtml

0 comments:

Post a Comment