خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع ایک تبلیغی مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 55 زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پشاور میں واقع تبلیغی مرکز میں اس وقت دھماکہ ہوا جب نمازِ مغرب ادا کی جا رہی تھی۔
صوبائی وزیرِ صحت شوکت یوسفزئی کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 55 زخمی ہیں۔
ایس پی سٹی فیصل مختار کے مطابق بم تبلیغی مرکز کے اندر نصب تھا اور دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔
بم ڈسپوزل یونٹ خیبر پختونخوا کے سربراہ اے آئی جی شفقت ملک کے مطابق دھماکے میں پانچ کلوگرام کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
دھماکے کے وقت شبِ جمعہ کے باعث تبلیغ کے لیے جانے والے افراد کی بڑی تعداد اس مرکز میں موجود تھی۔
شب جمعہ میں تبلیغی جماعت کے ارکان تبلیغی ٹیموں کی تشکیل کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں جس کے بعد کچھ لوگ گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں تاہم اکثریت اسی مرکز میں تین روز قیام کرتی ہے۔ پھر یہ لوگ تبلیغ کے لیے مختلف مقامات کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔
پشاور دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک دکاندار ندیم خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ وہ فرش پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے اور جب انھیں ہوش آیا تو ہسپتال میں تھے۔
انھوں نے کہا ’ میں نے ہسپتال میں دیکھا ڈاکٹر میرے بائیں بازو اور ٹانگ سے لوہے کے ذرات ہٹا رہے تھے‘۔
پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر اقبال آفریدی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے چند کی حالت بہت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔






0 comments:
Post a Comment